سوہاوہ (نیوز لائن ): سرکاری اداروں میں تعینات پبلک ریلیشنز افسران (پی آر اوز) کی کارکردگی اور ذمہ داریوں کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض اداروں میں پی آر اوز کا کردار صحافیوں کو مستند معلومات فراہم کرنے اور عوامی مسائل متعلقہ حکام تک پہنچانے کے بجائے تیار کردہ تشہیری خبروں کو مختلف گروپس میں شیئر کرنے تک محدود ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
پی آر اوز کی بنیادی ذمہ داری سرکاری اداروں اور ذرائع ابلاغ کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کرنا، حکومتی اقدامات سے متعلق مستند معلومات فراہم کرنا اور اداروں کی کارکردگی عوام تک پہنچانا ہے، تاکہ شہری سرکاری خدمات اور سہولیات سے متعلق بروقت اور درست آگاہی حاصل کر سکیں۔
تاہم، بعض حلقوں کی جانب سے شکایات سامنے آئی ہیں کہ کچھ پی آر اوز اپنے بنیادی فرائض کی ادائیگی کے بجائے افسران کی سرگرمیوں اور تشہیری مواد کی اشاعت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس صورتحال نے ان کی کارکردگی اور منصب کے حقیقی مقاصد سے متعلق بحث کو جنم دیا ہے۔
صحافتی حلقوں کے مطابق بعض سرکاری افسران عوامی مسائل، انتظامی فیصلوں اور اداروں کی کارکردگی سے متعلق سوالات کے جواب دینے سے گریز کرتے ہیں، جبکہ صحافیوں کو بروقت معلومات اور متعلقہ حکام کا مؤقف نہ ملنے سے عوامی مسائل کی مؤثر نشاندہی اور اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔
صحافت کا بنیادی مقصد عوامی مسائل اجاگر کرنا، حکومتی و انتظامی اقدامات کی نگرانی کرنا اور شہریوں تک درست معلومات پہنچانا ہے۔ اسی طرح پی آر او کا کردار محض پریس ریلیز جاری کرنے یا افسران کی سرگرمیوں کو نمایاں کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ صحافیوں کو مستند معلومات کی فراہمی، سوالات کے جوابات کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کاری اور عوامی شکایات اعلیٰ حکام تک پہنچانے میں بھی فعال ہونا چاہیے۔
صحافتی حلقوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پی آر اوز کی ذمہ داریوں اور کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے، صحافیوں کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری یقینی بنائی جائے اور عوامی اہمیت کے معاملات پر مستند معلومات کی فراہمی کے لیے واضح ضابطۂ کار مرتب کیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی کا معیار تشہیری خبروں کی تعداد نہیں، بلکہ عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات، مسائل کے حل اور شفاف طرزِ حکمرانی سے جانچا جانا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پی آر اوز اداروں، صحافیوں اور عوام کے درمیان اعتماد کا پل بنیں اور اپنے فرائض پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں۔
0











