جہلم چیمبر انتخابات، تین بڑے گروپ آمنے سامنے،حتمی فیصلہ 15 ستمبر کو ہوگا
تحریر : اشرف چغتائی
جہلم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے انتخابات کے سلسلے میں گزشتہ چار ہفتوں سے جاری انتخابی مہم گزشتہ رات اختتام پذیر ہوگئی۔ انتخابات میں ابتدائی طور پر چھ گروپ میدان میں تھے، تاہم انتخابی سرگرمیوں کے دوران بعض گروپوں اور امیدواروں نے اتحاد کرتے ہوئے مختلف انتخابی دھڑوں میں شمولیت اختیار کرلی، جس کے نتیجے میں اب مقابلہ بنیادی طور پر تین بڑے گروپوں، United Business Alliance، Business Alliance اور Al Hamd Business Group کے درمیان دکھائی دے رہا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران تینوں گروپوں نے اپنی سیاسی، کاروباری اور تنظیمی قوت کا مظاہرہ کرنے کے لیے بڑے اجتماعات اور تقریبات کا انعقاد کیا، جن میں بڑی تعداد میں کاروباری شخصیات، صنعت کاروں، تاجروں اور چیمبر کے ووٹرز نے شرکت کی۔
United Business Alliance کے قیام اور انتخابی مہم کو منظم کرنے میں جہلم کی ممتاز سیاسی، سماجی اور کاروباری شخصیات نے اہم کردار ادا کیا۔ ان میں سابق ایڈوائزر وزیراعلیٰ پنجاب اور ممتاز سیاسی و کاروباری شخصیت چوہدری عارف، ممتاز سیاسی و کاروباری شخصیت چوہدری غلام احمد زمرد، سمال انڈسٹریز جہلم کے صدر اور فیڈرل چیمبر آف کامرس کے رکن راجہ محمد انور اور جیولرز ایسوسی ایشن کے صدر راجہ سید نمایاں رہے۔
چوہدری عارف دو ہفتوں کے لیے برطانیہ میں موجود رہے، تاہم وہاں سے بھی وہ انتخابی مہم کے حوالے سے مسلسل رابطے میں رہے اور ساتھیوں کو مشاورت فراہم کرتے رہے۔ اسی طرح چوہدری غلام احمد زمرد اپنے Clarence Hotel اور Bundoo Khan Restaurant کی افتتاحی تقریبات میں مصروفیات کے باوجود انتخابی مہم میں متحرک دکھائی دیے۔ راجہ محمد انور بھی اپنے دفتر اور ٹیلی فون کے ذریعے ووٹرز سے مسلسل رابطے میں رہے۔
گزشتہ رات United Business Alliance کی جانب سے منعقدہ بڑی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز سیاسی و کاروباری شخصیات نے جہلم چیمبر آف کامرس کو مزید فعال اور مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور چیمبر کی بہتری کے لیے ایک روڈ میپ پیش کیا۔ چوہدری غلام احمد زمرد نے بھی اپنے مخصوص انداز میں جہلم چیمبر کو دیگر اضلاع کے چیمبرز کے مقابلے میں زیادہ متحرک اور مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز اور پروگرام پیش کیے۔
دوسری جانب Business Alliance کے رہنماؤں چوہدری عمر مشتاق برگٹ اور اظہر ڈار کی جانب سے بھی ایک بڑا پاور شو کیا گیا، جس میں شرکاء کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ہال میں بیٹھنے کی گنجائش کم پڑ گئی۔
Al Hamd Business Group کی جانب سے ڈاکٹر ناہید کوثر اور ان کی ٹیم نے بھی بڑی تقریب کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر پانچ کمپنیوں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں (MOUs) پر دستخط کیے گئے۔ گروپ کی قیادت نے مؤقف اختیار کیا کہ کامیابی کی صورت میں چیمبر کے ممبران کو مختلف کاروباری سہولیات اور سروسز فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ چیمبر کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک جامع روڈ میپ بھی پیش کیا گیا۔
انتخابی مہم کے دوران جہلم شہر میں مختلف گروپوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر تشہیری مہم بھی دیکھنے میں آئی۔ گزشتہ کئی برسوں میں پہلی مرتبہ چیمبر کے انتخابات کے موقع پر شہر کی مختلف سڑکوں اور اہم مقامات پر بڑی تعداد میں بل بورڈز اور انتخابی تشہیری مواد نظر آیا، جن پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی تصاویر نمایاں تھیں۔ انتخابی ماحول کسی حد تک عام انتخابات جیسا دکھائی دیتا رہا، جبکہ ذرائع کے مطابق تشہیری مہم پر خطیر رقم خرچ کی گئی۔
تینوں بڑے گروپوں کے پاور شوز اور انتخابی مہم کے اختتام کے بعد جہلم کے کاروباری اور میڈیا حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں اور تجزیے جاری ہیں۔ بعض مقامی میڈیا حلقوں کی رائے کے مطابق اس وقت United Business Alliance کو بظاہر برتری حاصل ہے، تاہم حتمی نتیجے کے بارے میں کوئی بھی پیش گوئی قبل از وقت ہوگی اور آخری مرحلے میں انتخابی نقشہ تبدیل بھی ہوسکتا ہے۔
موجودہ انتخابی جائزوں میں Business Alliance کو دوسرے نمبر پر مضبوط امیدوار گروپ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ گروپ بھی قابلِ ذکر نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
دوسری جانب Al Hamd Business Group نے بھی اپنی انتخابی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ پانچ کمپنیوں کے ساتھ MOUs، بڑے انتخابی اجتماع اور چیمبر کی کارکردگی بہتر بنانے کے روڈ میپ کے باعث گروپ نے اپنی موجودگی مؤثر انداز میں ظاہر کی ہے۔ آزادانہ تجزیے کے مطابق یہ گروپ بھی چند نشستیں حاصل کرکے چیمبر میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اب تمام نظریں 15 ستمبر کو ہونے والی پولنگ پر مرکوز ہیں، جہاں ووٹرز کے فیصلے سے یہ واضح ہوگا کہ جہلم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قیادت کا تاج کس گروپ کے سر سجتا ہے











