آئی ایم ایف کی شرائط سےمتعلق مجوزہ قانون سازی پر حکومت اور پیپلزپارٹی میں مشاورتی اجلاس ہوا جس دوران حکومت اورپیپلزپارٹی کےدرمیان متعدد ترمیمی بلزکی منظوری پراتفاق رائے ہو گیا ہے، حکومت نے مجوزہ قانونی ترامیم کی منظوری کیلئے پیپلزپارٹی سے تعاون کی درخواست کی تھی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق مجوزہ قانون سازی پر حکومت اور پیپلزپارٹی کی قیادت کے درمیان مشاورت ہوئی۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت اہم اجلاس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے اہم بلوں کی منظوری کے امور پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں آئی ایم ایف کی شرائط سے متعلق مجوزہ قانون سازی پر حکومت اور پیپلزپارٹی میں مشاورت ہوئی، مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے ہر قانون کا انفرادی جائزہ لیا، اجلاس میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں ردوبدل سے متعلق آئی ایم ایف شرائط کا بھی جائزہ لیا گیا۔
مالیاتی امور سے متعلق بعض قوانین میں ترامیم لائی جائیں گی، نجی شعبے کے حوالے کئے جانے والے اداروں کے متعلق قوانین میں ترامیم کی تجاویز زیر غور ہیں،سپریم کورٹ کےمصطفےٰایمپیکس کیس فیصلےکی روشنی میں بعض ترمیمی بلزکی منظوری پر مشاورت بھی کی گئی۔وزارت ریلویز،پیٹرولیم اور وزارت غذائی تحفظ سے متعلق مجوزہ ترمیمی بلز پر بھی مشاورت ہوئی۔
وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ،وزیرپارلیمانی امورطارق فضل چوہدری ، وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے نوید قمر،سینیٹر شیری رحمٰن اورفاروق ایچ نائیک مشاورتی اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ حسین طارق اور سینیٹر ضمیر حسین گھمرو بھی پیپلزپارٹی کے وفد میں شامل تھے۔
0











