وفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولنے کی تیاری ہو رہی ہے، کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق سختی سے نمٹیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر من و عن عملدرآمد ہوگا، اس بار ملک 10،20 دن بند نہیں ہونے دیں گے: وزیر داخلہ
لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر کے اسلام آباد کو ’’سومنات‘‘ بنانے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھڑکیں مارتے ہیں، انہیں مارنے دیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولنے کی تیاری کی جا رہی ہے، تاہم جو بھی اسلام آباد پر دھاوا بولنے یا اسے بند کرنے کی کوشش کرے گا، اس سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کے پاس اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم موجود ہے اور اس پر من و عن عملدرآمد کرایا جائے گا۔ ان کے مطابق اب بھی وقت ہے کہ بند گلی میں نہ جائیں اور ایسی جگہ نہ جائیں جہاں سے واپسی کا راستہ نہ ہو۔
محسن نقوی نے کہا کہ حکومت کے پاس جو بھی قانونی راستہ ہوگا، وہ اختیار کیا جائے گا۔ اس بار ایسا نہیں ہوگا کہ کوئی آئے اور ملک 10، 20 دن کے لیے بند ہوجائے، بلکہ مستقل لائحہ عمل بنایا جائے گا اور وفاقی حکومت بھرپور کردار ادا کرے گی۔
خیبرپختونخوا پولیس کے شہدا پر سیاسی قیادت کو تنقید
وزیر داخلہ نے خیبرپختونخوا پولیس کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے جوان شہید ہو رہے ہیں اور یہ شہدا صرف کسی ایک فریق کے نہیں بلکہ پاکستان کے شہید ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، تاہم کوئی وزیر شہدا کے جنازوں میں نہیں آیا۔ محسن نقوی کے مطابق یہ افسوسناک امر ہے کہ نہ خود آئے اور نہ ہی کسی وزیر کو شہدا کے جنازوں میں بھیجا گیا۔
’’پی ٹی آئی کے اکثر لوگ لانگ مارچ نہیں کرنا چاہتے‘‘
محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اکثر لوگ لانگ مارچ نہیں کرنا چاہتے اور انہیں خود بھی معلوم نہیں کہ ان کا مطالبہ کیا ہے۔
عمران خان کے علاج سے متعلق انہوں نے کہا کہ ان کا علاج قانون کے مطابق ہوگا، ان کی مرضی کے مطابق نہیں، جبکہ گزشتہ روز بھی ان کا میڈیکل چیک اپ کیا گیا ہے۔
نئے صوبوں کا معاملہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ پُرامید ہیں کہ صوبے ضرور بنیں گے اور نئے صوبوں کا معاملہ بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق محسن نقوی نے کہا کہ عالمی مارکیٹ کے حساب سے پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں کئی ممالک میں پیٹرول دستیاب نہیں اور ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے کہ ہزار روپے میں بھی پیٹرول نہ ملے۔
0











