قومی سلامتی، خودمختاری اور ملکی دفاع کے عزم کا اعادہ، 6 ستمبر کے جذبۂ اتحاد کو قومی طاقت قرار دے دیا؛ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل پر بھی زور
اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر اپنے پیغامات میں 6 ستمبر 1965ء کے شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ملکی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ 6 ستمبر قومی تاریخ میں ایک یادگار مقام رکھتا ہے اور یہ دن آزادی، خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے دی جانے والی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ 1965ء میں مسلح افواج اور پاکستانی قوم نے اتحاد، عزم، بہادری اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔
صدر مملکت نے مسلح افواج کے شہداء، غازیوں اور ان کے اہل خانہ کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء نے اپنے خون اور قربانیوں سے قومی تاریخ میں شجاعت اور حب الوطنی کی لازوال داستانیں رقم کیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ 6 ستمبر 1965ء کو مسلح افواج اور قوم نے جس اتحاد اور جذبۂ ایمانی کا مظاہرہ کیا وہ ہماری اجتماعی قوت کا مظہر ہے۔ جب کوئی قوم اپنی آزادی اور وطن کے دفاع کے لیے متحد ہوجائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کے عزم کو شکست نہیں دے سکتی۔
انہوں نے کہا کہ 6 ستمبر کا جذبہ ایک بار پھر آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی میں نمایاں ہوا۔ معرکۂ حق میں حاصل ہونے والی فتح نے قومی تاریخ میں ایک اور سنہرا باب رقم کیا اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور بہادری کا ثبوت دیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ 6 ستمبر قومی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے جو وطن کے دفاع کے لیے مسلح افواج اور قوم کے بے مثال اتحاد، عزم اور قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1965ء میں دشمن کی بلااشتعال جارحیت اور عددی برتری کے باوجود پاکستان کی مسلح افواج نے پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل تیاری سے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی، جبکہ پاکستانی قوم نے مثالی اتحاد، ثابت قدمی اور عزم کا مظاہرہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ماضی کی بہادری کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے معرکۂ حق میں پاک افواج نے پیشہ ورانہ حکمت عملی کے ذریعے دشمن کو ایسا جواب دیا جسے تاریخ یاد رکھے گی۔ آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی نے عسکری تاریخ میں ایک اور سنہری باب رقم کیا اور ثابت کردیا کہ 6 ستمبر کا جذبہ آج بھی پوری قوت کے ساتھ زندہ ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز مزید قومی اتحاد اور یکجہتی کا تقاضا کرتے ہیں۔ دہشت گردی اور ہائبرڈ وارفیئر کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں کو پوری قوت اور عزم کے ساتھ ناکام بنایا جائے گا۔
صدر مملکت نے بھی کہا کہ دشمن کی جانب سے مسلط کی جانے والی ہر روایتی اور غیر روایتی جنگ میں مسلح افواج نے وطن کے دفاع کے لیے غیرمتزلزل عزم کا عملی ثبوت دیا ہے۔ پوری قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
صدر مملکت اور وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے خطے اور دنیا میں امن، مکالمے اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا فعال کردار جاری رکھے گا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے صدر مملکت نے اسے اجتماعی سلامتی، علاقائی امن و استحکام اور پاکستان کے قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر بڑھتے ہوئے کردار کا مظہر قرار دیا، جبکہ وزیراعظم نے اسے علاقائی سلامتی، اجتماعی دفاع اور برادر ممالک کے ساتھ پائیدار شراکت داری کے عزم کا عکاس قرار دیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ مضبوط دفاع کے ساتھ معاشی استحکام، سیاسی رواداری، قومی یکجہتی، تعلیم اور ترقی بھی پاکستان کی طاقت کی بنیادی اساس ہیں۔ وزیراعظم نے بھی جہالت، غربت اور پسماندگی کے خاتمے، معاشی ترقی، سیاسی استحکام اور عوامی فلاح کو قومی ترجیحات قرار دیا۔
دونوں رہنماؤں نے یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر قائداعظم محمد علی جناحؒ کے اصول ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کو قومی زندگی کا حصہ بنانے اور پاکستان کو مضبوط، خوشحال، مستحکم اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
صدر مملکت اور وزیراعظم نے شہداء کے درجات کی بلندی، ان کے اہل خانہ کے لیے صبر و استقامت اور پاکستان کے امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے دعا بھی کی۔
0











