0

کوہاٹ حملے پر پاکستان کا افغان طالبان سے دہشت گرد نیٹ ورک ختم کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد: وزارت اطلاعات و نشریات نے کوہاٹ میں جمعہ کی نماز کے دوران شہریوں اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے افغان طالبان سے افغانستان میں موجود دہشت گرد پناہ گاہوں اور نیٹ ورکس کے خلاف قابلِ تصدیق اور مستقل کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
وزارت اطلاعات کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ کوہاٹ میں حملہ دہشت گردوں کی جانب سے شہریوں اور نماز ادا کرنے والے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنا کر کیا گیا، پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب اور کوئی جواز نہیں۔
وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلسل افغان طالبان حکومت اور اس کے رابطہ کاروں کے سامنے تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے ساتھ بھرتی، تربیت اور معاونت کا ڈھانچہ پاکستان کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، افغان طالبان کو چاہیے کہ وہ ان نیٹ ورکس کو ختم کریں اور ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے بجائے مؤثر کارروائی کریں۔
بیان میں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے پاکستان کو ’’کچل دینے والے ردعمل‘‘ کی دھمکی کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پاکستان کو دھمکیاں دینا قابلِ مذمت ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کو چاہیے کہ وہ اپنے زیرِ اثر موجود دہشت گردی کے ماحول کا سدباب کریں اور دوحہ معاہدے کے تحت اپنی انسدادِ دہشت گردی کی ذمہ داریاں پوری کریں، خصوصاً افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے افغان وزارت خارجہ کی جانب سے کوہاٹ حملے کی مذمت اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کا نوٹس لیا ہے تاہم افغان بیان میں دہشت گردی کے عنصر کا ذکر نہیں کیا گیا۔
پاکستان کے مطابق محض مذمت کافی نہیں، اسے ٹھوس اقدامات سے ثابت کرنا ہوگا۔ افغان طالبان کو دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم، انتہا پسندوں کی بھرتی اور تربیت کے نیٹ ورک توڑنے اور پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری اور کارروائی روکنے کے لیے قابلِ اعتماد، قابلِ تصدیق اور مستقل اقدامات کرنا ہوں گے۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ ہمیشہ مذاکرات اور تعمیری روابط کی پالیسی اپنائی ہے، تاہم مذاکرات کی آڑ میں پاکستان کے شہریوں کو نشانہ بنانے والوں کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں