0

نئے حملے کی صورت میں جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا، ایرانی فوج نے امریکا کو خبردار کر دیا

ایرانی فوج نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ خطے میں امریکی فوج کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کسی بھی نئے حملے کی صورت میں جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مزید فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد جنگ دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں جمعے کو اعلیٰ ایرانی حکام سے مذاکرات کیلیے تہران پہنچا، ایرانی حکام سے 12 گھنٹے کی طویل بات چیت کے بعد قطری ثالثوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صہیونیوں کے دباؤ میں آ کر انہیں خوش کرنے کے لیے ایک بار پھر خطے میں مہم جوئی کرتے ہیں تو جنگ کے شعلے بلاشبہ کہیں زیادہ وسیع جغرافیائی علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ اور تنازع کا اختتام امریکی صدر کے اختیار میں نہیں رہے گا۔
بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج خطے میں امریکا کی تمام فوجی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر وائٹ ہاؤس نے اسرائیلی قابض حکومت کے ساتھ مل کر ایک اور مشترکہ فوجی کارروائی کرنے کی کوشش کی تو تہران کی جانب سے فوری اور غیر معمولی فوجی ردعمل دیا جائے گا۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا تھا کہ ایران کی طاقتور مسلح افواج ان عناصر کے خلاف کارروائی کریں گی جو ایرانی عوام کو نقصان پہنچانے کی جرات کریں گے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کو رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی قومی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی کو خط بھیجا ہے، جس کا مقصد مذاکرات بحال کرنا اور امریکا کی جانب سے مزید حملوں کو روکنا ہے۔
ایران نے امریکی نائب صدر کا خط موصول ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم اس پر اپنے ردعمل کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔
خیال رہے امریکا میں منگل کو وسط مدتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جنہیں جنگ کی آئندہ سمت کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی ووٹرز میں تشویش پیدا کی ہے، جنگ کے حوالے سے ووٹرز میں پائی جانے والی بے چینی بھی حکومت کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے۔
قطر اور پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کر رہے ہیں، تاہم اب تک مذاکرات کسی مستقل معاہدے پر منتج نہیں ہو سکے۔ سفارتی کوششوں کے باوجود آبنائے ہرمز کی ناکا بندی اور دونوں جانب سے مزید فوجی کارروائیوں کی دھمکیوں نے خطے میں جنگ کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے خدشات برقرار رکھے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں