وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہاہے کہ دوائیاں بنانے والی 50 کمپنیوں نے 2 ہزار فیصد قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے،تھرڈ پارٹی آڈٹ میں دوائیوں کی قیمتوں میں اضافہ سامنے آیا ہے، 2022ءکے بعد کمپینوں کو نان ایسینشل ادویات کی قیمتوں میں اضافےکی اجازت دی، بہت سی کمپینوں نے اس کا فائدہ اٹھایا،ان تمام کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کی بزنس کمیونٹی کی مجبوری ہےکہ وہ سندھ حکومت کی تنقیدنہیں کر سکتی،ان کو ڈر ہے جو کام ہورہا ہے وہ بھی نہ رک جائے،نئےانتظامی یونٹس کا بلو پرنٹ سسٹم چلانے والوں کے پاس ہو گا میرےپاس نہیں ہے، مسلم لیگ نون بھی راضی ہے،ان کی خاموشی کو رضا مندی سمجھیں، ملک کے مسئلے کا حل اور ریاست کی سوچ اب الائن ہوچکی، نئے انتظامی یونٹس پر بات بہت آگے بڑھ چکی،متعلقہ حلقوں میں سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سنجیدہ معاملہ ہے اور بہت سنجیدہ گفتگو ہو رہی ہے کوئی کسی کو پیچھے نہیں لگا رہا، یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہیےتھا،ہم جتنی دیر لگائیں گے اتنی پریشانی ہوگی، ایسانہیں ہے کہ کسی کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جا رہا ہے، بعض لوگوں کی تلخی سے اندازہ لگائیں کہ ان کو انتظامی یونٹس سے کتنی تکلیف ہو رہی ہے، سب کوپتہ ہے کہ ملک میں یہ ہونے جا رہا ہے۔
وزیر صحت کا کہناتھا کہ کراچی میں ناردرن بائی پاس ڈبل ہورہا ہے،کراچی سے حیدرآباد موٹر وے نہیں ہائی وے ہے،اب کراچی سے حیدر آباد موٹر وے بنے گی نئی الائمنٹ ہو رہی ہے، حیدرآباد سے سکھر موٹر وے پر بھی اسی سال کام شروع ہوگا،ملک میں ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے کیونکہ مہنگائی بڑھ رہی ہے،اب دواؤں کی قیمت اگر نہیں بڑھے گی توکون دواؤں کے شعبےمیں سرمایہ کاری کرےگا،جب دواؤں کی قیمت بڑھاتےہیں تو ہیڈنگ لگتی ہے جان بچانےوالی ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ،اب ایسا ہے تو پھرحکومت کو اپنے اینڈ سے اس مسئلہ کو حل کرنا چاہیے۔
ان کا کہناتھا کہ یہ بڑا بدنام زمانہ کام ہے،میں دواؤں کی قیمت میں اضافے کا بہت بڑا حامی ہوں،کینسرکی دوا ہے اور اسکی قیمت مطلوبہ ضرورت کے مطابق نہیں بڑھی تو وہ دوا مارکیٹ سے غائب ہوگئی،اب اس پرحکومت نے ایک کمیٹی بنادی جس کے سربراہ وزیر خزانہ ہیں، دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کا جائزہ اور فیصلہ یہ کمیٹی کرے گی۔
مصطفیٰ کمال کا کہناتھا کہ ہم نے اتنی بڑی کامیابیاں حاصل کرلیں لیکن انٹرنل محاذہم سےٹھیک ہو کر نہیں دے رہا، ہم نے انڈیا کو مار بھگایا لیکن بلوچستان اور کے پی کے میں جنگ چل رہی، انڈیا ہمارا دشمن،انڈیا دونوں جگہ ریاست سے لڑنے والوں کو پیسہ اور اسلحہ دےرہا، لیکن لڑتو یہاں کے لوگ ہی رہے ہیں نا ؟ سسٹم لوگوں کو باغی بنا رہا ہے، کچھ لوگ سب نہیں نظام کی وجہ سےبغاوت کر دیتے ہیں، پچھلے 17 برسوں میں وفاق سے 22 ہزارارب روپےاین ایف سی میں سندھ کو ملے، یہ اتنے پیسے ہیں کہ سندھ 50 دفعہ بلڈوز ہوکر دوبارہ نیا بن جائے، وسائل کی کمی نہیں مسئلہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کا ہے۔
0











