0

فرانس، پرتشدد ہنگاموں پر قابو پانے کیلئے کئی شہروں میں کرفیو نافذ، اڑھائی ہزار مظاہرین گرفتار

فرانس میں پرتشدد ہنگاموں اور لوٹ مار کے واقعات پر قابو پانے کیلئے پیرس کے وسطی علاقوں اور دیگر شہروں کے بعض حصوں میں رات کے وقت کرفیو نافذ کر دیا گیا جبکہ توڑ پھوڑ میں ملوث اڑھائی ہزار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
فرانس میں ستمبر کے وسط میں پیرس کے شمالی مضافات میں طلبہ نے اساتذہ کی کمی اور اسکولوں کی ناقص عمارتوں کے خلاف احتجاج شروع کیا جو بعد ازاں یہ مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، عدم مساوات اور عوامی خدمات کی خراب صورتحال کے خلاف ملک گیر مظاہروں میں تبدیل ہو گیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے پیرس پولیس کے حوالے سے بتایا کہ پلیس دے لا ریپبلک، جہاں ہفتے کے اختتام پر مظاہرین جمع ہوئے تھے، میں رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔ شہر کے کئی دیگر حصوں میں غیر مجاز اجتماعات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
جنوبی فرانس کے شہروں مارسیلی، بورڈو، نیس اور لیون سمیت شمالی شہر لِل اور دیگر قصبوں میں بھی جزوی کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مختلف مقامات پر نوجوانوں کی نقل و حرکت اور اجتماعات کو محدود کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق مظاہرین کی جانب سے توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں ایک ہزار پولیس اہلکار زخمی ہوئے، اب تک توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 2 ہزار 500 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
اس سے قبل وزیر داخلہ لوراں نونیز نے اعتراف کیا تھا کہ بعض شہروں میں حالات پولیس کے کنٹرول سے باہر ہو گئے ہیں ۔ مظاہروں سے نمٹنے کی تیاریوں پر اپوزیشن سیاستدانوں نے ان پر سخت تنقید کی تھی۔
فرانسیسی وزیراعظم سباسٹین لیکورنو کا کہنا ہے کہ حکومت متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے فنڈز مختص کرے گی اور یہ رقم تشدد میں ملوث افراد سے وصول کی جائے گی۔
لیکورنو نے کہا، ”ایک قانون متعارف کرایا جائے گا تاکہ املاک کو نقصان پہنچانے والوں سے اس کی تلافی کروانے کے طریقے وضع کیے جا سکیں۔“
فرانسیسی وزیراعظم نے ہنگاموں اور لوٹ مار کے باعث کام پر نہ جا سکنے والے افراد کے لیے جزوی بے روزگاری فنڈ کا اعلان بھی کیا۔
فرانس کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سربراہ ایلین ڈی کرسینزو کے مطابق ہفتے کے اختتام پر ہونے والے تشدد سے 2 ہزار سے زائد دکانیں اور دیگر کاروبار براہ راست متاثر ہوئے۔
انہوں نے فرانسیسی نشریاتی ادارے آر ٹی ایل کو بتایا کہ ہنگاموں سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ ”سینکڑوں ملین یورو“ لگایا گیا ہے۔
مارسیلے میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سربراہ ژاں لوک شووین نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کے متعدد دکاندار شدید پریشانی کا شکار ہیں اور انہیں اپنے کاروبار کی بقا کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔
واضح رہے تین روز قبل مارسیلی میں مظاہرین نے سٹی ہال میں گھس کر فرانسیسی جمہوریہ کی قومی علامت ماریان کا مجسمہ الٹ دیا اور فرنیچر توڑ دیا جبکہ لیل شہر میں میئر کے دفتر میں بھی توڑ پھوڑ کی۔ اس کے علاوہ مظاہرین نے مختلف شہروں میں مہنگے برانڈز کی دکانوں اور سپر مارکیٹوں میں لوٹ مار کی اور پولیس کی گاڑیوں اور اہلکاروں پر حملے کیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں