0

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملک میں 15 نئے صوبوں کی تجویز دے دی

ہر صوبے کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز، قومی و سیاسی بحث شروع کرنے پر زور؛ حکومتی مشیر کا مؤقف، فی الحال نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا
اسلام آباد (نیوزلائن) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملک میں 15 نئے صوبے بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام عوامی مسائل حل کرنے اور مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام ہو رہا ہے، اس لیے ہر صوبے کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے آپشن پر سنجیدہ قومی و سیاسی بحث ہونی چاہیے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ملک میں انتظامی نظام کو بہتر بنانے کے لیے نئے صوبوں کے قیام پر غور ضروری ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے اور اس کے ذریعے قومی سطح پر سیاسی و عوامی بحث کا آغاز کیا جائے۔
وفاقی وزیر کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے ناگزیر ہوگا، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو معاملے پر مل بیٹھ کر غور کرنا چاہیے۔
دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی موجودہ انتظامی ڈھانچے کو فرسودہ قرار دیتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں مؤثر حکمرانی اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔
تاہم وزیراعظم کے مشیر رانا احسان افضل خان نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے حوالے سے کسی فوری فیصلے کی تردید کردی۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال نہ نئے صوبوں کے قیام اور نہ ہی انتظامی یونٹس سے متعلق کوئی فیصلہ ہوا ہے، جبکہ کسی جائزہ کمیٹی کا قیام بھی زیرِ غور نہیں۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث کا آغاز وزیر داخلہ محسن نقوی کے ’’سسٹم کولیپس‘‘ کے بیان کے بعد ہوا، جس کے بعد ملک میں انتظامی ڈھانچے اور نئے صوبوں کے قیام پر سیاسی سطح پر بحث تیز ہوگئی۔
دوسری جانب سندھ اسمبلی بھی گزشتہ روز نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے خلاف قرارداد منظور کرچکی ہے۔ قرارداد کی منظوری کے موقع پر اپوزیشن ارکان نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا تھا۔
نئے صوبوں کے قیام کی تجویز نے ملک میں انتظامی اصلاحات، اختیارات کی تقسیم اور صوبائی ڈھانچے کے مستقبل سے متعلق ایک نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے، تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں