0

بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی آزادی کیلئے مکالمے کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا، سجید سندھو

برادریوں اور اداروں کے درمیان مضبوط شراکت داری وقت کی اہم ضرورت ہے، نازیہ انصاری
اسلام آباد(نیوزلائن) انٹر فیتھ لیگ اگینسٹ پاورٹی اور انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم پیس بلڈرز فورم پاکستان کے چیئرمین سجید سندھو نے کہا ہے کہ امن صرف تنازعات کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ انسانی وقار، مساوات، باہمی احترام اور آزادی کے اصولوں کے تحفظ سے وابستہ ہے۔ مذہبی آزادی پائیدار امن کی بنیادی ضرورت ہے، مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی، انسانی وقار، مساوی شہریت اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ کیلئے مکالمے کو تحقیق، پالیسی سازی اور عملی سفارشات میں تبدیل کیا جائے گا،انہوں نے ان خیالات کا اظہار انٹر فیتھ لیگ اگینسٹ پاورٹی (I-LAP) اور انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم پیس بلڈرز فورم پاکستان کے زیر اہتمام عالمی یومِ امن 2026ء کے موقع پر خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،تقریب میں مذہبی رہنماؤں، حکومتی و پارلیمانی نمائندوں، ریٹائرڈ فوجی افسران، ماہرین تعلیم، محققین، سول سوسائٹی، خواتین، نوجوانوں اور میڈیا نمائندوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔تقریب کا مرکزی موضوع مکالمے سے عملی اقدامات تک تھا۔ سجید سندھو نےپاکستان کے آئین کے آرٹیکل 20 اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے آرٹیکل 18 کا حوالہ دیتے ہوئے مذہبی آزادی اور آزادیٔ فکر و ضمیر کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئےکہا کہ “ہمارا مقصد محاذ آرائی نہیں بلکہ تعاون ہے۔” اجتماعی دانش، تحقیق اور عملی تجربات کو یکجا کرکے پالیسی سازوں، پارلیمنٹ، حکومت، ریاستی اداروں اور تھنک ٹینکس کیلئے قابلِ عمل سفارشات مرتب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ IRF-PBF پاکستان کے اگلے مرحلے میں پانچ موضوعاتی ورکنگ گروپس قائم کیے جائیں گے، جن میں ریسرچ اینڈ پبلک پالیسی، گورنمنٹ اینڈ پارلیمانی انگیجمنٹ، مذہبی آزادی، قانون و پالیسی اصلاحات، بین المذاہب تعلقات و امن سازی، اور نوجوان، خواتین و کمیونٹی لیڈرشپ شامل ہیں۔ان ورکنگ گروپس میں مختلف مذاہب، پیشہ ورانہ شعبوں اور اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائے گا تاکہ مذہبی آزادی، مساوی شہریت، بین المذاہب تعلقات اور پرامن بقائے باہمی کے حوالے سے تحقیق اور عملی تجاویز سامنے لائی جا سکیں۔اس موقع پر IRF Roundtable Pakistan کے آغاز کا بھی اعلان کیا گیا، جو مختلف مذاہب اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز کیلئے مستقل بنیادوں پر مکالمے، تحقیق، پالیسی انگیجمنٹ اور عملی سفارشات کا پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ تقریب سےخطاب کرتے ہوئےانٹر فیتھ لیگ اگینسٹ پاورٹی اور انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم پیس بلڈرز فورم پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور کی وائس چیئرپرسن نازیہ انصاری نے کہا کہ امن سازی کیلئے مسلسل رابطہ، شمولیت اور عملی اقدامات ضروری ہیں، جبکہ بین المذاہب تعاون کو صرف تقریبات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ورکنگ گروپس اور IRF Roundtable Pakistan کے ذریعے مذہبی رہنماؤں، خواتین، نوجوانوں، محققین، پالیسی سازوں اور سول سوسائٹی کو امن سازی کے عمل میں فعال شراکت دار بنایا جائے گا۔ خواتین اور نوجوانوں کی بامعنی شرکت کے ساتھ مختلف برادریوں اور اداروں کے درمیان مضبوط شراکت داری وقت کی اہم ضرورت ہے۔تقریب میں حکومتی و ریاستی اداروں، پارلیمنٹ، مذہبی برادریوں، جامعات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے مذہبی آزادی، مساوی شہریت، بین المذاہب ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور پائیدار امن کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ مقررین نے آئینی تحفظات، ذمہ دارانہ پالیسی سازی اور ریاستی اداروں و مذہبی برادریوں کے درمیان تعمیری رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے محبت، ہمدردی، انسانی وقار، احترام اور انسانیت کی خدمت کو مشترکہ اقدار قرار دیتے ہوئے بین المذاہب تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ ماہرین تعلیم، محققین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شواہد پر مبنی تحقیق کو مؤثر پالیسی سفارشات میں تبدیل کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔ خواتین اور نوجوانوں کے نمائندوں نے بھی امن سازی اور کمیونٹی لیڈرشپ میں بامعنی شمولیت پر زور دیا۔تقریب کے دوران اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (IRI)، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد، یونائیٹڈ کونسل آف چرچز اور سناٹن دھرم کے نمائندوں نے I-LAP کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے، جن کے تحت مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی، تحقیق، مکالمے اور امن سازی کے شعبوں میں مشترکہ تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی، انسانی وقار، مساوی شہریت اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ کیلئے مکالمے کو تحقیق، پالیسی سازی اور عملی سفارشات میں تبدیل کیا جائے گا۔تقریب کے اختتام پر سجید سندھو نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ مل کر ایسا پاکستان تشکیل دینے کیلئے اپنا کردار ادا کریں جہاں ہر انسان کے ساتھ عزت و وقار کا برتاؤ ہو اور ہر شخص اپنے مذہب یا عقیدے سے قطع نظر امن، آزادی اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزار سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں