امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کے حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں 24 امریکی فوجی اڈے اور 274 عمارتیں تباہ ہوئیں۔
امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجی اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے کے لیے فضائی اڈوں، بحری مراکز اور دیگر فوجی تنصیبات پر مشتمل وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے۔ یہ تنصیبات بحرین، مصر، عراق، اسرائیل، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب، شام اور متحدہ عرب امارات میں واقع ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے حملے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ، سب سے زیادہ کویت کے علی السالم ایئر بیس پر کم از کم 30 مرتبہ حملہ کیا گیا، جس سے 15 سے زائد طیاروں کے ہینگرز، گوداموں اور رہائشی علاقے کے قریب عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ بحرین ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ،عراق ، قطر، عمان اور اردن میں بھی امریکی تنصیبات پر ایران نے حملے کیے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے سیٹلائٹ تصاویر اور امریکی فوجی حکام سے انٹرویوز کے ذریعے فوجی اڈوں کی تباہی کا جائزہ لیا، جس سے معلوم ہوا کہ ایرانی حملوں میں ابتدائی 2 ہفتوں میں 119عمارتیں متاثر ہوئیں۔
امریکی اخبار کی تحقیق کے مطابق ایران نے جنگ کے پہلے 6 ماہ کے دوران مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی والی 24 تنصیبات کی 274 عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والے مقامات میں اردن کا موفق السلطی ایئر بیس بھی شامل ہے، جہاں 17 جولائی کو ایرانی حملے میں 3 امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ کم از کم 19 عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ متاثرہ عمارتوں میں فوجیوں کی رہائش گاہیں بھی شامل تھیں۔
واشنگٹن میں قائم سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کے اندازے کے مطابق صرف تباہ شدہ عمارتوں کی دوبارہ تعمیر پر 4 ارب ڈالر سے زائد لاگت آئے گی، جبکہ ان عمارتوں کے اندر موجود آلات اور نظام کی تبدیلی کے اخراجات اس میں شامل نہیں ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پینٹاگون نے امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ کم از کم 5 ارب ڈالر لگایا ہے، تاہم یہ رقم 15 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اخراجات 16 اکتوبر تک جنگ پر آنے والے اندازاً 47 ارب 10 کروڑ ڈالر کے اخراجات کے علاوہ ہیں۔
مالی نقصان کے ساتھ ساتھ فوجی تنصیبات کی تباہی نے امریکی اہلکاروں کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے 20 سے زائد امریکی فوجی ہلاک اور 400 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ میں ہونے والے جانی نقصان، بجٹ اور مجموعی مالی اخراجات کے اعداد و شمار دانستہ طور پر کم ظاہر کر رہی ہے۔
0











