آئی جی میاں سالک جلال نے رشوت لینے سے انکار کرکے اینٹی کرپشن کو اطلاع دی، عمران برتھ کو مبینہ طور پر رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا گیا
راولپنڈی (نیوزلائن): محکمہ جیل خانہ جات پنجاب میں مبینہ رشوت ستانی کے خلاف اہم کارروائی کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ جیل اٹک عمران برتھ کو آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال کو رشوت دینے کی کوشش کے الزام میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے گرفتار کرلیا۔
محکمہ جیل خانہ جات کے مطابق عمران برتھ 5 اکتوبر کو رات تقریباً 10 بجے آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے لیے پہنچے، جہاں ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے سکیورٹی، حفاظتی اور انتظامی امور پر گفتگو ہوئی۔ ملاقات کے بعد وہ وہاں سے روانہ ہوگئے تاہم تقریباً دو منٹ بعد دوبارہ واپس آئے اور اہم بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
ذرائع کے مطابق آئی جی جیل خانہ جات کے ڈرائنگ روم میں پہنچنے پر عمران برتھ نے نوٹوں سے بھرا ایک لفافہ ان کی میز پر رکھ دیا۔ میاں سالک جلال نے مبینہ رشوت کی رقم قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے فوری طور پر سیکرٹری داخلہ پنجاب کو واقعے سے آگاہ کیا اور بعد ازاں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کو کارروائی کے لیے اطلاع دی۔
اطلاع ملتے ہی اینٹی کرپشن حکام نے کارروائی کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ جیل اٹک عمران برتھ کو مبینہ رشوت کے لفافے سمیت گرفتار کرلیا۔
محکمہ جیل خانہ جات پنجاب کے مطابق واقعے کی مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی جانب سے قانون کے مطابق جاری ہیں۔
آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال نے کہا ہے کہ محکمہ جیل خانہ جات میں رشوت ستانی، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی افسر یا اہلکار کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
0











