0

18 اکتوبر 2007 — تاریخِ پاکستان کا ایک المناک دن

18 اکتوبر 2007 — تاریخِ پاکستان کا ایک المناک دن
سانحۂ کارساز کے شہداء کو سلامِ عقیدت — بہادر رہنما محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی جرأت، استقامت اور عزم کو خراجِ تحسین
تحریر :اشرف چغتائی لندن

سانحۂ کارساز کے شہداء کو سلامِ عقیدت، جنہوں نے جمہوریت، عوامی حقوق، آزادی اور پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان عظیم کارکنوں کی قربانیاں ہماری قومی اور سیاسی تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب ہیں۔ ان کی یاد آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے اور جمہوریت کے لیے ہمارے عزم کو مضبوط کرتی ہے۔
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی جرأت، استقامت اور عوام سے بے مثال وابستگی آج بھی جمہوریت، آزادی، عوامی بالادستی اور آئین کی حکمرانی پر یقین رکھنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
18 اکتوبر 2007 کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک عظیم الشان واقعہ تھا۔ کراچی کے قائداعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کی آمد کے موقع پر لاکھوں افراد نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ یہ عوامی اجتماع محترمہ بے نظیر بھٹو سے عوام کی محبت، وابستگی اور جمہوریت کی بحالی کی امیدوں کا مظہر تھا۔
اس سے قبل 10 اپریل 1986 کو لاہور میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی تاریخی آمد پر بھی عوام کا ایک غیر معمولی اجتماع دیکھنے میں آیا تھا۔ 18 اکتوبر 2007 کو کراچی میں ان کی وطن واپسی کے موقع پر ہونے والے عظیم الشان استقبال نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتی تھیں۔
ان کا طیارہ کراچی کے قائداعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا تو شہر کی فضا عوامی نعروں اور استقبال کی گونج سے بھر گئی۔ سہ پہر کے وقت محترمہ بے نظیر بھٹو ایک خصوصی طور پر تیار کیے گئے ٹرک پر سوار ہو کر عوام کے درمیان آئیں۔ وہ اپنے کارکنوں اور عوام سے ملنے، جمہوریت کی جدوجہد کو آگے بڑھانے اور پاکستان میں ایک نئی سیاسی امید پیدا کرنے کے لیے وطن واپس لوٹی تھیں۔
لیکن افسوس کہ اس تاریخی استقبال کے دوران کارساز کے مقام پر ایک ہولناک دہشت گرد حملہ ہوا۔ اس سانحے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینکڑوں کارکن شہید اور زخمی ہوئے۔ یہ حملہ نہ صرف بے گناہ انسانوں کی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا بلکہ جمہوری جدوجہد اور عوامی اجتماع کو بھی خون میں نہلا گیا۔
اس المناک واقعے میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے محفوظ رہیں۔ تاہم، ان کے وفادار کارکنوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
سانحۂ کارساز کے بعد بھی محترمہ بے نظیر بھٹو کے عزم اور جمہوری جدوجہد کا سفر جاری رہا۔ خوف اور دہشت کے باوجود انہوں نے عوام سے اپنا تعلق نہیں توڑا اور جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ ان کی زندگی اس عزم کی علامت بن گئی کہ عوامی حقوق، جمہوریت اور پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد قربانی، حوصلے اور استقامت کا تقاضا کرتی ہے۔
سانحۂ کارساز ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت کی بنیاد صرف نعروں پر نہیں بلکہ ان قربانیوں پر بھی قائم ہے جو عوامی حقوق اور سیاسی آزادی کے لیے دی جاتی ہیں۔
آج اس عظیم سانحے کے شہداء کو یاد کرتے ہوئے ہم عہد کرتے ہیں کہ ان کی قربانیوں کو فراموش نہیں کریں گے اور جمہوریت، آئین کی حکمرانی، عوامی حقوق اور پاکستان کے پُرامن مستقبل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
اللہ تعالیٰ سانحۂ کارساز کے تمام شہداء کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، زخمیوں اور متاثرہ خاندانوں کو اجرِ عظیم عطا فرمائے اور پاکستان کو امن، استحکام اور جمہوریت کا گہوارہ بنائے۔ آمین۔
شہداء کی قربانیاں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
سلام شہدائے کارساز — سلام محترمہ بے نظیر بھٹو شہید
تحریر اشرف چغتائی لندن

اپنا تبصرہ بھیجیں