0

کٹھ پتلی سیاست کا انجام

پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ مصنوعی طریقے سے بنائے گئے بت کبھی پائیدار ثابت نہیں ہوتے۔ جب تک قدرت اور عوام کی حقیقی طاقت کسی سیاسی دھارے کی پشت پناہ نہ ہو، تب تک نعروں کا حباب جلد یا بدیر پھوٹ ہی جاتا ہے۔ حالیہ سیاسی منظر نامے، تحریک انصاف پر منڈلاتے پابندی کے بادلوں اور سیاسی توڑ پھوڑ نے ایک بار پھر اس حقیقت کو طشت از بام کر دیا ہے کہ پاور پلیئرز کے کندھوں پر بیٹھ کر مسند ِ اقتدار تک پہنچنے والی جماعتوں کی عمرِ طبعی کتنی مختصر ہوتی ہے۔
اگر تاریخ کے اوراق پلٹ کر غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اپنی ساخت کے اعتبار سے کبھی بھی ایک قدرتی اور گراس روٹ لیول کی مقبول عوامی جماعت نہ تھی۔ یہ ایک خاکہ تھا جسے وقت اور ضرورت کے تحت تراشا اور سجایا گیا۔ بائیس برسوں کی طویل جدوجہد کے ریکارڈ کو دیکھ لیجیے؛ عمران خان اپنی روایتی میانوالی کی نشست کے سوا ملک بھر سے کوئی خاص پذیرائی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ان کی مثال بالکل ویسی ہی تھی جیسے آج کل گلوکار احمد جواد کی پارٹی کا حال ہے۔مربوط تنظیمی ڈھانچہ اور سیاسی بصیرت نہ ہونے کے باوجود میڈیا یا سوشل میڈیا کی حد تک شور شرابا اور مقبولیت کا تاثر تو موجود ہوتا ہے، لیکن جب بات انتخابی معرکے کی آتی ہے تو وہ اپنی ذاتی نشست بھی جیتنے سے قاصر رہتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے نوجوان حامیوں اور جذباتی کارکنوں کے نزدیک عمران خان کا سحر ضرور موجود رہا ہے، لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کے نزدیک یہ مقبولیت کسی ٹھوس سیاسی نظریے کی بجائے ایک شوبز اسٹار جیسا گلیمر تھی۔ تحریک انصاف کے نوجوانوں میں عمران خان کی مقبولیت کا موازنہ ماضی کی معروف اداکارہ اور ’مساوات پارٹی‘ کی سربراہ مسرت شاہین سے کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا، جو میڈیا اور عوام کی توجہ کا مرکز تو بنتی تھیں لیکن انتخابی سیاست میں ان کا وزن صفر تھا۔ عمران خان سے ملک کے پیچیدہ سیاسی اور پیچ در پیچ معاشی مسائل کے حل کی توقع صرف وہی شخص لگا سکتا تھا جسے نہ تو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا علم ہو اور نہ ہی معاشی حرکیات اور عالمی مالیاتی اداروں کے نظام کی سوجھ بوجھ ہو۔
آج جب پی ٹی آئی سخت ترین دور سے گزر رہی ہے، اس پر پابندی کے امکانات روشن ہیں اور اس کے مرکزی و صوبائی رہنما یا تو جلاوطن ہیں، پابند ِ سلاسل ہیں یا تائب ہو کر پارٹی چھوڑ رہے ہیں، تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس کا مستقبل کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کا سیاسی باب اب تقریباً ختم ہو چکا ہے۔اس پارٹی کو اس کے اصل سرپرستوں اور خالقوں کی جانب سے ”عضو ِ معطل“ بنانے کا اصولی اور حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
یہ وہ موڑ ہے جہاں سے تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ماضی میں ایئر مارشل (ر) اصغر خان کی ’تحریک ِ استقلال‘ ایک وقت میں انتہائی مقبول، دیانتدار اور روشن خیال جماعت سمجھی جاتی تھی۔ ملک کے پڑھے لکھے طبقے کا خیال تھا کہ اصغر خان ہی اس ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی ریاستی سرپرستی اور وقت کی ضرورت ختم ہوئی، تحریک ِ استقلال کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ وہ وقت اب دور نہیں جب لوگ مرحوم اصغر خان کی تحریک ِ استقلال کی طرح عمران خان کی تحریک ِ انصاف کا نام بھی بھول جائیں گے۔
تحریک انصاف کے متوقع سیاسی خاتمے کے بعد سب سے بڑا خلا خیبرپختونخوا (KP) میں پیدا ہو گا،جو گزشتہ ایک دہائی سے پی ٹی آئی کا مضبوط ترین گڑھ رہا ہے۔ سیاسی شطرنج کے نئے مہروں اور آئندہ کے نقشے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے پی کے میں پی ٹی آئی کی جگہ لینے کے لئے سب سے بڑی دعویدار کے طور پر ابھرے گی۔
پاکستان کی ستر سالہ سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ غیر سیاسی اور غیر جمہوری قوتوں کے کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے والی جماعتوں کا انجام ہمیشہ عبرت ناک ہوتا ہے۔ 80ء کی دہائی میں کراچی اور شہری سندھ کی سب سے طاقتور آواز بن کر اُبھرنے والی ایم کیو ایم کو جب تک سپورٹ حاصل رہی، وہ ناقابلِ تسخیر نظر آئی، لیکن جیسے ہی اقتدار اور اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات بدلیں، ایک ہی ’آفس آرڈر‘ اور آپریشن نے پارٹی کے شیرازے کو بکھیر کر رکھ دیا۔ ایم کیو ایم کی طرح پی ٹی آئی کا زوال بھی ثابت کرتا ہے کہ جو عمارت ریت کی بنیادوں پر کھڑی کی جائے، وہ ایک ہلکے سے سیاسی زلزلے کی تاب نہیں لا سکتی۔ وہ تمام سیاسی جماعتیں جن کی جڑیں گراس روٹ (عوامی) سطح پر مضبوط نہیں ہوتیں اور جو عوام کے حقیقی مسائل کے بجائے کسی ’تیسری قوت‘ کی آشیرباد پر انحصار کرتی ہیں، ان کی کل عمر صرف ایک نوٹیفکیشن یا آفس آرڈر کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔
صرف اہلکاروں کو سزا دینے سےستھرا پنجاب نہیں بن سکتا،سرکاری افسروں کو کمروں اور کاروں سے باہر نکل کر بد ترصورتحال کو دیکھنا ہوگا
اس کے برعکس، پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ (نواز)، ان جماعتوں پر کتنے ہی کڑے وقت کیوں نہ آئے ہوں، ان کے رہنماؤں نے جیلیں کاٹیں، جلاوطنیاں بھگتیں اور کوڑے کھائے، لیکن چونکہ ان کی قیادت کا رابطہ گراس روٹ لیول پر عوام سے قائم رہا، اس لئے وہ تمام تر سختیاں جھیلنے کے باوجود آج بھی ملک کی اہم ترین سیاسی حقیقتیں بن کر زندہ ہیں۔
سیاست نام ہے مسلسل جدوجہد، عوام کے ساتھ جیتا جاگتا رابطہ اور نظریاتی پختگی کا۔ جو جماعتیں شارٹ کٹ کے ذریعے، سوشل میڈیا کے طوفان بدتمیزی، نعرے بازی اور طاقتور حلقوں کی بیساکھیوں کے سہارے اقتدار میں آتی ہیں، ان کا انجام عمران خان کی تحریک انصاف سے مختلف نہیں ہو سکتا۔ وقت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ طاقت کا حقیقی سرچشمہ صرف اور صرف عوام ہیں، اور جو جماعتیں اس سچائی کو جھٹلاتی ہیں، وہ تاریخ کے کوڑے دان میں اصغر خان کی تحریک استقلال کی طرح صرف ایک داستان بن کر رہ جاتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں