ملکی مفاد، سیاسی اختلاف اور قومی سلامتی
تحریر اشرف چغتائی لندن
پاکستان اس وقت ایک ایسے نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں ملک کو بیک وقت دہشت گردی، علاقائی کشیدگی، معاشی مشکلات، سیاسی اختلافات اور قومی سلامتی کے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں سیاسی اختلاف اپنی جگہ جمہوریت کا بنیادی حق ہے، لیکن قومی مفاد، ریاستی سلامتی اور آئین و قانون کی پاسداری ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری بھی ہے۔
9 مئی کے واقعات کے بعد پاکستان میں سیاسی کشیدگی نے ایک نئی شدت اختیار کی۔ بعض سیاسی کارکنوں اور حلقوں کی جانب سے مسلح افواج کے خلاف سخت زبان اور منفی مہمات بھی سامنے آئیں، جس کے نتیجے میں معاشرے میں موجود سیاسی تقسیم مزید گہری ہوئی۔ سیاسی جماعتوں کو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید، احتجاج اور اختلافِ رائے کا مکمل جمہوری حق حاصل ہے، لیکن اختلاف کو ریاستی اداروں کے خلاف محاذ آرائی میں تبدیل کرنا ملک کے وسیع تر مفاد میں نہیں۔
حالیہ علاقائی حالات نے بھی پاکستان کے لیے قومی سلامتی کی اہمیت مزید اجاگر کر دی ہے۔ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے ملکی دفاع کے حوالے سے اپنا کردار ادا کیا، جبکہ اسی عرصے میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے دوران پاکستان نے مختلف مواقع پر مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں حصہ لیا۔ اپریل میں پاکستان کی ثالثی سے ایک عارضی جنگ بندی کا اعلان بھی ہوا تھا، تاہم بعد میں صورتحال دوبارہ کشیدہ ہوئی اور آج بھی سفارتی کوششیں جاری ہیں
یہ صورتحال ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ پاکستان کو جنگ اور تصادم کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور سیاسی مفاہمت کے راستے کو ترجیح
پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کا اعلان اس وقت ملکی سیاست کا ایک اہم موضوع ہے۔ یہ احتجاج پہلے 27 ستمبر کے لیے مقرر کیا گیا تھا، جسے بعد میں 4 اکتوبر تک مؤخر کیا گیا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے فی الحال 4 اکتوبر کا پروگرام برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
احتجاج ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے، لیکن احتجاج کو پرامن رکھنا، عوام کی زندگی معمول کے مطابق چلنے دینا اور قانون و آئین کی حدود میں رہنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اسی طرح حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سیاسی احتجاج سے نمٹتے ہوئے قانون، آئینی حقوق اور شہری آزادیوں کو ملحوظ خاطر رکھے۔
اس وقت اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی اختلاف کو سیاسی دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے سے بات چیت کا راستہ کھلا رکھیں تو بہت سے مسائل سڑکوں کے بجائے مذاکرات کی میز پر حل کیے جا سکتے ہیں۔
آج پاکستان دہشت گردی کے سنگین چیلنج سے بھی دوچار ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ یکم اکتوبر کو بلوچستان کے کچھی ضلع میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں چھ دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع بھی سامنے آئی اور
اسی طرح پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس نے خطے کی سلامتی کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایسے ماحول میں سیاسی قیادت، پارلیمنٹ، ریاستی اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قومی سلامتی کے معاملات پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ اختلاف ضرور ہو، سوال بھی اٹھائے جائیں، حکومت پر تنقید بھی کی جائے، لیکن ایسا کرتے ہوئے قومی مفاد، امن اور ریاستی استحکام کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے
موجودہ صورتحال میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان ملاقاتیں اور رابطے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سمیت مختلف سیاسی قوتوں کی جانب سے سیاسی رابطوں اور مشاورت کا عمل اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ موجودہ حالات میں سیاسی قوتوں کا ایک دوسرے سے بات کرنا کمزوری نہیں بلکہ جمہوری عمل کا حصہ ہے۔
وزیراعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان ملکی صورتحال پر ملاقاتیں اور مشاورت بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ تاہم ان ملاقاتوں میں ہونے والے فیصلوں کی مکمل تفصیلات جب تک سرکاری طور پر سامنے نہ آئیں، قیاس آرائیوں سے گریز ہی بہتر ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ریاستی سطح پر کیے جانے والے فیصلے آئین، قانون، قومی سلامتی اور عوام کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔
پاکستان کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سیاسی حکومتیں اور جماعتیں وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں، لیکن ریاست اور وطن ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی سیاسی جماعت یا حکومت کے مفاد کو پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد پر مقدم نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستان کو آج سیاسی تصادم نہیں بلکہ سیاسی برداشت کی ضرورت ہے۔ ہمیں احتجاج کا حق بھی برقرار رکھنا ہے، آزادیٔ اظہار کا احترام بھی کرنا ہے، لیکن ساتھ ہی آئین، قانون، امن اور قومی سلامتی کی حدود کو بھی ملحوظ رکھنا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک مضبوط پاکستان صرف مضبوط ریاستی اداروں سے نہیں بلکہ مضبوط سیاسی اداروں، مستحکم معیشت، قانون کی بالادستی، قومی یکجہتی اور ذمہ دار سیاسی قیادت سے بھی بنتا ہے۔
اگر سیاسی قوتیں اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے، ریاستی ادارے آئین و قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے، اور عوامی مسائل کو ترجیح دینے پر اتفاق کرلیں تو پاکستان موجودہ مشکلات سے نکلنے کی بہتر پوزیشن میں آ سکتا ہے۔
آج وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے پاکستان کو کامیاب بنانے کی سوچ پیدا کریں۔
پاکستان ہم سب کا وطن ہے۔ سیاسی حکومتیں آتی جاتی رہیں گی، سیاسی جماعتیں اپنی جگہ بدلتی رہیں گی، لیکن پاکستان ہمیشہ قائم رہنا ہے۔ اس لیے ہماری سیاست، ہماری گفتگو اور ہمارے فیصلوں کا آخری مرکز ہمیشہ پاکستان کا قومی مفاد ہونا چاہیے۔
ان شاء اللہ سیاسی استحکام، قومی یکجہتی، امن، بہتر حکمرانی اور معاشی ترقی کے لیے اجتماعی کوششیں جاری رہیں تو پاکستان ایک مضبوط، پرامن اور خوشحال مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔











