لندن پلان کی خبریں اور پاکستان کی سیاسی صورتحال
تحریر :اشرف چغتائی
آج کل سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ صدر آصف علی زرداری، وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور میاں نواز شریف لندن میں موجود ہیں اور شاید کسی نئے ’’لندن پلان‘‘ پر غور ہو رہا ہے۔ کوئی ملک میں اچانک سیاسی تبدیلی کی پیش گوئی کر رہا ہے تو بعض نام نہاد تجزیہ کار مارشل لا کی باتیں بھی کر رہے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پاکستان میں فوری طور پر کوئی بڑی سیاسی تبدیلی آنے والی ہے؟
میری نظر میں موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ایسی کسی فوری تبدیلی کے امکانات نظر نہیں آتے۔ اسی طرح مارشل لا جیسی قیاس آرائیوں کو بھی محض سوشل میڈیا کی خبروں کی بنیاد پر حقیقت سمجھنا مناسب نہیں۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کے سیاسی و ریاستی معاملات کو افواہوں کے بجائے زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے مشکل حالات میں اپنی دفاعی صلاحیت، قومی عزم اور سفارتی کردار کا مظاہرہ کیا ہے۔ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران مسلح افواج اور عوام کے جذبے نے ملک کے دفاع کے حوالے سے ایک مضبوط پیغام دیا، جبکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار نے بھی یہ تاثر مضبوط کیا کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن کے فروغ کا خواہاں ہے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ملک کو مسائل درپیش نہیں۔ لوڈشیڈنگ، بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی مشکلات آج بھی عوام کے لیے بڑے چیلنج ہیں۔ حکومت کو اپنی پالیسیوں کو مزید مؤثر بنانے، عوام کو ریلیف دینے اور معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ حکومت پر تنقید کرنا ہر شہری اور سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے، لیکن تنقید اور بے بنیاد افواہوں میں فرق برقرار رہنا چاہیے۔
ایک اور اہم موضوع ان دنوں نئے صوبوں کا قیام ہے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں اس حوالے سے بحث جاری ہے۔ اگر واقعی ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی کوئی سنجیدہ تجویز زیرِ غور ہے تو یہ فیصلہ کسی سیاسی جماعت یا چند افراد کی خواہش پر نہیں بلکہ عوام کی رائے اور وسیع قومی اتفاقِ رائے سے ہونا چاہیے۔
اگر ضرورت محسوس ہو تو اس معاملے پر عوامی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم بھی ایک راستہ ہو سکتا ہے، کیونکہ صوبوں کی تشکیل ایک معمولی انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
پاکستان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ یہاں ہر موسم، قدرتی وسائل، باصلاحیت نوجوان، مضبوط دفاع اور بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم سیاسی اختلافات کو دشمنی میں تبدیل نہ کریں، افواہوں کے بجائے حقائق پر اعتماد کریں اور ملک کو مزید مضبوط، مستحکم اور خوشحال بنانے کے لیے مل کر کام کریں۔
سیاسی تبدیلی جمہوریت کا حصہ ہے، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن پاکستان سب سے مقدم ہے۔ ہمیں بیرونی سازشوں کے خوف اور اندرونی افواہوں کے شور سے نکل کر قومی مفاد، جمہوری استحکام اور معاشی ترقی کی طرف توجہ دینا ہوگی۔
پاکستان مضبوط ہوگا تو ہم سب مضبوط ہوں گے۔
0











