بیرونی خطرات اور دہشتگردی میں اضافے کے پیش نظر احتجاج مؤخر کرنے کی تجویز، ریاست سے ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات کی راہ اختیار کرنے پر زور
پشاور (نیوزلائن): پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے پارٹی قیادت کو خط لکھ کر 4 اکتوبر کو ہونے والے لانگ مارچ کو فوری طور پر ملتوی کرنے کی تجویز دی ہے۔ خط پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور دیگر قائدین کو ارسال کیا گیا ہے۔
شوکت یوسفزئی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ملک کے وسیع تر مفاد، بیرونی خطرات اور دہشتگردی میں اضافے کے پیش نظر احتجاج اور لانگ مارچ کو مؤخر کیا جائے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں ریاست سے ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت بعض معاملات کو بنیاد بنا کر ایمرجنسی نافذ کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، جبکہ افغانستان سے ممکنہ حملہ بھی ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے جواز بن سکتا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے خط میں خدشہ ظاہر کیا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا حکومت کے عدم تعاون کا بیانیہ بنا سکتی ہے اور صوبائی حکومت کو ختم کرنے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید خدشہ ظاہر کیا کہ دہشتگردی کی حمایت کے الزامات عائد کرکے تحریک انصاف پر پابندی لگانے کی کوشش بھی ممکن ہے۔
شوکت یوسفزئی نے پارٹی قیادت کو یاد دلایا کہ بانی چیئرمین عمران خان ماضی میں بھی کارکنوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے لانگ مارچ ختم کر چکے ہیں۔ انہوں نے قیادت سے اپیل کی کہ ان کی گزارشات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور موجودہ ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے احتجاج کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی تاریخ پہلے ہی 27 ستمبر سے تبدیل کرکے 4 اکتوبر کی جا چکی ہے۔ 26 ستمبر کو شوکت یوسفزئی نے لانگ مارچ مؤخر کرنے کے فیصلے کو پارٹی کی سیاسی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے پرامن سیاسی جدوجہد اور حکومت کے ساتھ عملی مذاکرات پر بھی زور دیا تھا۔
29 ستمبر کو سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے بھی 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کی تجاویز پارٹی قیادت کے سامنے رکھی گئی ہیں، تاہم اس معاملے پر پارٹی کے اندر مختلف آرا بھی سامنے آئی ہیں۔
0











