0

سہیل آفریدی نے ذاتی فائدے کے لیے مذاکرات کامیاب ہونے نہیں دیے: طلال چوہدری

دہشت گردی کے خلاف بیانیے سمیت اہم نکات پر اتفاق ہوچکا تھا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے عین آخری وقت پر نئی شرائط سامنے لائی گئیں، وزیر مملکت کا دعویٰ
اسلام آباد (نیوزلائن): وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کے آخری مرحلے میں اپوزیشن نے نئی شرائط پیش کرکے مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کی کوشش ناکام بنادی، حالانکہ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے سمیت اہم سیاسی معاملات پر فریقین کے درمیان اتفاق رائے ہوچکا تھا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے روز ہی بنیادی معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق ہوگیا تھا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے پشاور جاکر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد تمام نکات پر مکمل اتفاق کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔
وزیر مملکت کے مطابق مذاکرات کے پہلے روز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشت گردی کے خلاف حکومت کا مؤقف واضح کیا اور خیبرپختونخوا حکومت کو نیشنل ایکشن پلان پر تعاون سمیت انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا گیا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پہلے مسودے میں پی ٹی آئی کے بانی کی صحت، ملاقاتوں اور رہنماؤں کے مقدمات سمیت سیاسی معاملات بھی شامل تھے۔ رات نو بجے مسودہ حتمی شکل اختیار کرچکا تھا اور وزیر داخلہ صدر مملکت اور وزیراعظم کو پیش رفت سے آگاہ کرنے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو امید تھی کہ مذاکرات کے ذریعے میثاقِ جمہوریت کی جانب ایک اہم پیش رفت ہوگی، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف متفقہ قومی بیانیے پر اپوزیشن کو ساتھ لانا ملک کے لیے بڑی کامیابی ہوتی، چاہے اس کا سیاسی فائدہ اپوزیشن کو ہی کیوں نہ پہنچتا۔
وزیر مملکت نے الزام عائد کیا کہ مذاکرات کے آخری مرحلے میں اپوزیشن رہنماؤں نے الگ کمرے میں بیٹھ کر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے دوبارہ رابطہ کیا اور واپسی پر نئی شرائط سامنے رکھ دیں، جس کے بعد فریقین کے درمیان اتفاق رائے نہ ہوسکا۔
طلال چوہدری نے واضح کیا کہ ملکی سلامتی اور نیشنل ایکشن پلان پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل روزانہ شہداء کے جنازوں کو کندھا دیتے ہیں اور حکومت 25 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کے امن و امان کے لیے جنگ لڑ رہی ہے۔
خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ اگر صوبے میں صرف ایک جماعت کے لیے سیاسی سرگرمیاں محفوظ ہوں اور دیگر شہری خوف محسوس کریں تو یہ صورتحال قابل قبول نہیں ہوسکتی

اپنا تبصرہ بھیجیں