0

سوہاوہ سے نوجوان فزیوتھراپسٹ مبینہ طور پر اغوا، آج مہندی کی تقریب تھی

کلینک سے لیپ ٹاپ لے کر مریض دیکھنے نکلنے والے ڈاکٹر محمد حارث کا تاحال سراغ نہ مل سکا، پولیس نے مقدمہ درج کرکے بازیابی کے لیے ٹیم تشکیل دے دی
سوہاوہ (نیوزلائن): سوہاوہ سے نوجوان فزیوتھراپسٹ ڈاکٹر محمد حارث کے مبینہ اغوا کا واقعہ سامنے آیا ہے، جن کے اہلِ خانہ کے مطابق وہ گھر سے مریض دیکھنے کے لیے اپنے کلینک گئے اور وہاں سے لیپ ٹاپ لے کر نکلنے کے بعد لاپتا ہوگئے۔ نوجوان کی آج مہندی کی تقریب ہونا تھی۔
اہلِ خانہ کے مطابق ڈاکٹر محمد حارث پسند کی شادی کر رہے تھے اور شادی کے سلسلے میں گھر میں خوشی کا ماحول تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوان کے لاپتا ہونے کے بعد لڑکی اور اس کے والدین کو مبینہ طور پر دھمکی آمیز پیغامات اور کالز موصول ہوئیں، جبکہ لڑکی کے اہلِ خانہ کو یہ پیغام بھی دیا گیا کہ ڈاکٹر حارث شادی نہیں کرنا چاہتے۔
خاندان کا مؤقف ہے کہ ڈاکٹر محمد حارث شادی کے حوالے سے انتہائی خوش تھے اور ان کی جانب سے شادی سے انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اہلِ خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نوجوان کا اچانک لاپتا ہونا ان کی زندگی کے لیے خطرے کا باعث ہوسکتا ہے۔
واقعے کے بعد پولیس تھانہ سوہاوہ میں نوجوان کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ایس ایچ او تھانہ سوہاوہ احسن شہزاد بٹ نے نوجوان کی بازیابی کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے اور خود بھی معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق نوجوان کی بازیابی کے لیے ہیومن سورسز اور جدید ٹیکنالوجی سے مدد لی جا رہی ہے، جبکہ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق حارث از خود روپوش ہوا ہے کیونکہ وہ اس شادی سے ناخوش تھا اس بابت پو لیس کے ہاتھ ایسا مواد لگا ہے جس نے اس اغوا کے معاملے کو مذید مشکوک بنا دیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں