نکہ خورد کے درجنوں دیہات آلودگی کی لپیٹ میں، سڑک کنارے پھینکا جانے والا کچرا آبی نالے کے ذریعے دریائے جہلم اور رسول ہیڈ ورکس تک پہنچنے لگا، آبی حیات کو سنگین خطرات لاحق
جہلم ( نیوزلائن): ستھرا پنجاب کے تحت صفائی کے دعووں کے برعکس تحصیل جہلم میں مبینہ ناقص انتظامات نے ماحولیات کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ علاقہ بائی دیس اور گردونواح سے جمع کیا جانے والا کچرا سڑک کنارے پھینکے جانے کے ساتھ ساتھ دریائے جہلم میں داخل ہونے والے آبی نالے میں بھی ڈالے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث کچرا بہہ کر دریائے جہلم اور بالخصوص رسول ہیڈ ورکس کے مقام پر جمع ہونے لگتا ہے۔
مقامی حلقوں کے مطابق صفائی کے لیے ذمہ دار عملے کی مبینہ غفلت اور ناقص نگرانی کے باعث یونین کونسل نکہ خورد کے درجنوں دیہات کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے بجائے آلودگی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کچرے کے ڈھیر نہ صرف آبادیوں اور سڑکوں کے ماحول کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ آبی نالے کے ذریعے دریائے جہلم میں پہنچنے والا فضلہ آبی ماحول کے لیے بھی سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
ماحولیاتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پلاسٹک، گندگی اور دیگر ٹھوس فضلے کا دریائے جہلم میں داخل ہونا آبی حیات کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو دریائے جہلم کی مچھلی سمیت دیگر آبی جاندار بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ رسول ہیڈ ورکس کے مقام پر کچرے کا جمع ہونا اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ صفائی کا مسئلہ اب صرف سڑکوں اور آبادیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ دریا کے قدرتی ماحول کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔
دریائے جہلم کی مچھلی ذائقے اور معیار کے اعتبار سے ملک بھر میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے، تاہم دریا میں مسلسل کچرے کی آمیزش اس آبی دولت کے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق آبی ذخائر میں ٹھوس فضلہ اور دیگر آلودگی نہ صرف مچھلیوں بلکہ پورے آبی نظام کو متاثر کرسکتی ہے۔
علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ آبی نالے میں کچرا پھینکنے کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ دار اہلکاروں کا تعین کیا جائے اور دریائے جہلم میں کچرے کے داخلے کو روکنے کے لیے مستقل بنیادوں پر مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ستھرا پنجاب کا مقصد اگر صفائی اور صاف ماحول کی فراہمی ہے تو کچرے کو آبادی سے اٹھا کر دریا کے راستے آبی ماحول تک پہنچانا اس مقصد کی نفی ہے۔ حکام کو چاہیے کہ صفائی کے نظام کی محض کاغذی نگرانی کے بجائے عملی طور پر فیلڈ میں صورتحال کا جائزہ لے کر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔
0











