0

دہشتگردی کے خلاف اپوزیشن ساتھ دے تو کے پی میں ایمرجنسی ختم ہوسکتی ہے، بلاول بھٹو

کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کو آئینی قرار دے دیا، دہشتگردوں کو دوبارہ آباد ہونے کی دعوت دینے اور قیدیوں کی رہائی کو ماضی کی غلطیاں قرار دے دیا؛ نئے صوبے آئینی طریقے سے بن سکتے ہیں
کراچی ( نیوزلائن): چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن دہشتگردی کے خلاف وفاقی حکومت کا ساتھ دے تو ایمرجنسی ختم ہوسکتی ہے، کیونکہ دہشتگردی کا مقابلہ متحد ہو کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور ملک سے دہشتگردی کے خاتمے تک مقابلہ جاری رہے گا۔
کراچی میں یادگارِ شہدائے کارساز پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ صوبے میں سب سے زیادہ دہشتگردی ہو رہی ہے، جہاں فوج، پولیس اور عوام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ کارساز کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا اور ملک کے کسی حصے سے قومی پرچم اتارنے یا انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی صورتحال کے باعث گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی۔ پیپلزپارٹی نے گورنر راج کے معاملے پر وفاقی حکومت کا ساتھ دیا، تاہم پارٹی وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا مقابلہ کرنا پیپلزپارٹی کی اولین ترجیح ہے اور سیاسی اختلافات کے باوجود قومی سلامتی پر متحد ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے اپیل کی کہ وہ سیاسی تنقید کے ساتھ دہشتگردی کی بھی مذمت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت کے متعدد افراد بھی دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہو چکے ہیں اور وہ چاہیں تو گورنر راج کے خاتمے کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیں۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے ماضی کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کو دوبارہ آباد ہونے کی دعوت دی گئی اور جیلوں میں قید دہشتگردوں کو رہا کیا گیا، جس کے نتائج آج ملک کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں دہشتگردوں کو شکست دی تھی اور اب بھی متحد ہو کر انہیں شکست دی جا سکتی ہے۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ محسن نقوی پیپلزپارٹی کی پالیسی سے آگاہ ہیں۔ گلگت بلتستان میں اتفاق رائے موجود ہے تو نئے صوبوں کے قیام پر پیش رفت کیوں نہیں ہو رہی؟ ان کے مطابق آئینی اور قانونی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے صوبائی منظوری سے نئے صوبے قائم کیے جا سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں