0

ایف آئی اے اب زبانی حکم پر کسی مسافر کو آف لوڈ نہیں کر سکے گی، نیا اسٹینڈنگ آرڈر نافذ

ایف آئی اے امیگریشن نے ملک بھر کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور ڈرائی پورٹس کے لیے 12 صفحات پر مشتمل نیا حکم نامہ جاری کردیا، آف لوڈنگ کے فیصلوں کا تحریری اور ڈیجیٹل ریکارڈ لازمی ہوگا
کراچی: ویب ڈیسک
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن نے مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے طریقۂ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے ملک بھر کے ہوائی اڈوں، سمندری بندرگاہوں اور ڈرائی پورٹس کے لیے 12 صفحات پر مشتمل نیا اسٹینڈنگ آرڈر جاری کردیا ہے، جس کے تحت کسی بھی مسافر کو زبانی حکم یا غیر تحریری کارروائی کی بنیاد پر آف لوڈ نہیں کیا جا سکے گا۔
جاری کردہ دستاویز کے مطابق نیا اسٹینڈنگ آرڈر نمبر 07/2026 فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، جبکہ سال 2005 میں جاری کیا گیا سابقہ اسٹینڈنگ آرڈر منسوخ کردیا گیا ہے۔ نئے حکم نامے کا وقتاً فوقتاً جائزہ بھی لیا جائے گا۔
نئے اسٹینڈنگ آرڈر میں امیگریشن افسران کی ذمہ داریوں اور مسافروں سے متعلق فیصلوں کے طریقۂ کار کو واضح کیا گیا ہے۔ اس کے تحت امیگریشن کے فیصلوں کو باقاعدہ تحریری کارروائی، ڈیجیٹل ریکارڈ، خطرات کی بنیاد پر جانچ اور متعلقہ افسر کی جواب دہی سے منسلک کیا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق مسافروں کو آف لوڈ کرنے سے متعلق کارروائی کا مکمل ریکارڈ انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (آئی بی ایم ایس) میں درج کرنا ہوگا، تاکہ فیصلوں کی دستاویز بندی اور متعلقہ افسر کی ذمہ داری کا تعین ممکن ہو سکے۔
نئے حکم نامے کے نفاذ کے بعد امیگریشن کارروائی میں زبانی ہدایات کے بجائے تحریری فیصلوں اور ڈیجیٹل ریکارڈ کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔ سابقہ ہدایات بھی اس حد تک غیر مؤثر ہوں گی جہاں وہ نئے اسٹینڈنگ آرڈر سے متصادم ہوں گی۔
اس اقدام کا مقصد امیگریشن فیصلوں میں طریقۂ کار کی پابندی، شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم، نئے حکم نامے کی تمام شقوں اور ان کے عملی اطلاق کی تفصیلات کا تعین اصل سرکاری دستاویز کے مکمل متن سے ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں