0

دو برسوں کے دوران پختونخوا میں دہشتگرد حملوں میں اضافہ ہوا، وفاقی کابینہ کو خصوصی سکیورٹی رپورٹس پیش

دو برسوں کے دوران پختونخوا میں دہشتگرد حملوں میں اضافہ ہوا، وفاقی کابینہ کو خصوصی سکیورٹی رپورٹس پیش
ویب ڈیسک
اسلام آباد: وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ کے اہم ترین اجلاس میں کےپی پولیس اورحساس اداروں کی 2 خصوصی سکیورٹی رپورٹس پیش کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں کےپی میں گورننس اور سکیورٹی کی انتہائی تشویشناک صورتحال کا تفصیلی جائزہ متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، دہشتگردی میں مسلسل اضافہ کےپی کی سکیورٹی صورتحال کے لیے سنگین اورتشویشناک چیلنج بن گیا ہے۔
رپورٹ میں ہے کہ سی ٹی ڈی کو خصوصی تربیت یافتہ افرادی قوت کی سنگین کمی کا سامنا ہے، خصوصی انسداد دہشتگردی فورس ہونے کے باوجود افرادی قوت کیلئے سی ٹی ڈی کا پولیس پرانحصار ہے، سی ٹی ڈی کے ضلعی دفاتر، آپریشنل سہولیات، خصوصی انفرااسٹرکچر ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔
خصوصی رپورٹ میں ہے کہ بڑھتی دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے سی ٹی ڈی کے مخصوص، جدید، مضبوط انفرا اسٹرکچر کی فوری ضرورت ہے۔
رپورٹ میں کےپی میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات، ادارہ جاتی کمزوریوں،گورننس کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، سکیورٹی اداروں کی استعداد، صوبائی تیاری اور انسدادِ دہشتگردی اقدامات میں موجود سنگین خلا کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا، خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے اسباب اور ذمہ داریوں کا بھی تفصیلی جائزہ پیش گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں